-->

یہ بیج محمد اقبال (مرحوم) کے نام سے صدقہ جاریہ ہے

Tuesday, July 20, 2021

قربانی کا جانورذبح کرنے کا سنت طریقہ

بسم الله الرحمن الرحیم

جانور کو قبلہ رخ لٹاتے ہوئے جانور کو بائیں کروٹ پر لٹانا سنت عمل ہے، یعنی ہمارے ملک کےحساب سےجانور کا سر والا حصہ جنوب کی طرف اور دُم والاحصہ شمال کی طرف ہو، تاکہ دائیں ہاتھ سے چھری چلانے میں سہولت رہے۔

جب قربانی کا جانور قبلہ رخ لٹالیں تو پہلے درج ذیل  آیت پڑھنا بہتر ہے:

"إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ

اور ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا اگر یاد ہو تو پڑھ لیں:

"اللّٰهُم َّمِنْكَ وَ لَكَ"  پھر  ’’بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرْ‘‘۔

 کہہ  کر ذبح کریں، اور ذبح کرنے کے بعد اگر یہ دعا یاد ہو تو پڑھ لیں:

"اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّيْ كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَ خَلِيْلِكَ إبْرَاهِيْمَ عليهما السلام

اگر کسی اور کی طرف سے ذبح کر رہے ہوں تو "مِنِّيْ" کی جگہ "مِنْ"  کے بعد اس شخص کا نام لے لیں۔

’’حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَوْمَ عِيدٍ بِكَبْشَيْنِ فَقَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا "إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ"‘‘۔ ’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور جس وقت ان کا منہ قبلے کی طرف کیا تو فرمایا: «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وأمته» "میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم ہے اور سب سے پہلے میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے، اور تیرے ہی واسطے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول فرما"‘‘۔ (سنن ابن ماجہ: ج۴، كتاب الأضاحي، باب أَضَاحِيِّ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم، رقم الحدیث ۳۱۲۱)

عرفہ کے دن کی دعا کی فضیلت

بسم الله الرحمن الرحیم

’’حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدِينِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"۔ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ‘‘۔ ’’رسول اﷲﷺنے ارشادفرمایا: سب سے بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور سب سے افضل دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام نے کی وہ یہ ہے "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"‘‘۔ (جامع الترمذی: ج۲، كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب فِي دُعَاءِ يَوْمِ عَرَفَةَ، رقم الحدیث ۳۵۸۵)

Tuesday, July 13, 2021

یوم عرفہ یعنی ۹ ذلحج کا روزہ رکھنے کی فضیلت

بسم الله الرحمن الرحیم

’’حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "‏صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ"۔ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ۔ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ۔ وَقَدِ اسْتَحَبَّ أَهْلُ الْعِلْمِ صِيَامَ يَوْمِ عَرَفَةَ إِلاَّ بِعَرَفَةَ‘‘۔ ’’حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا ثواب اللہ تعالیٰ یہ دے گا کہ اگلے پچھلے ایک سال کے گناہ بخش دے گا۔ امام ترمذیؒ کہتے ہیں: ابوقتادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، اہل علم نے عرفہ کے دن کے روزے کو مستحب قرار دیا ہے، مگر جو لوگ عرفات میں ہوں ان کے لیے مستحب نہیں‘‘۔ (صحیح مسلم: ج۳، کتاب الصیام، باب اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، رقم الحدیث ۱۱۶۲؛ جامع الترمذی: ج۱، كتاب الصوم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ صَوْمِ عَرَفَةَ، رقم الحدیث ۷۴۹؛ سنن ابن ماجہ: ج۱، كتاب الصوم، باب صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ، رقم الحدیث ۱۷۳۰)

حاجیوں کےلئےعرفہ کے دن کا روزہ رکھنا مستحب نہیں ہے، اس لیے کہ نبی ﷺنے اس دن کا روزہ ترک کیا تھا، اوراحادیث میں یہ بھی مروی ہے کہ نبی ﷺنے یوم عرفہ کا میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، لہٰذا حاجیوں کے علاوہ باقی سب لوگوں کے لیے یہ روزہ رکھنا مستحب ہے۔

آج کل لوگوں میں ایک عجیب بحث چھڑ گئی ہے کہ چونکہ احادیث میں عرفہ کے دن کا روزہ لکھا ہے نہ کہ ۹ ذالحج کا اور عرفہ کا تعلق وقوفِ عرفات سے ہے اور وقوف ہمارے پاکستان کی اسلامی تاریخ کےاعتبار سے ۸ ذوالحجہ کو ہو گا؛ لہٰذا ہمیں اپنے پاکستان کی اسلامی تاریخ ۹ ذو الحجہ کے بجائے سعودیہ کا اعتبار کرتے ہوئے ۸ ذو الحجہ کو یوم عرفہ کاروزہ رکھنا چاہیے۔ یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ حدیث میں یوم عرفہ کے بجائے ۹ ذالحج کے الفاظ بھی واضح طورپرملتے ہیں۔

درج ذیل حدیث میں یوم عرفہ کے بجائےنو (۹) ذی الحجہ کے الفاظ مذکور ہیں:

’’حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ‘‘۔ ’’ہنیدہ بن خالد کی بیوی سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ کی کسی بیوی سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ذی الحجہ کے (شروع) کے نو (۹) دنوں کا روزہ رکھتے، اور یوم عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ رکھتے نیز ہر ماہ تین دن یعنی مہینے کے پہلے پیر (سوموار، دوشنبہ ) اور جمعرات کا روزہ رکھتے‘‘۔ (سنن ابی داؤد: ج۲، کتاب الصوم، باب فِي صَوْمِ الْعَشْرِ، رقم الحدیث۲۴۳۷)

۹ ذی الحجہ کو یومِ عرفہ کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں:

۱۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آٹھ(۸) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا، پھرنو(۹)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سےہی ہے،  چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کویہ معرفت اور یقین نو(۹)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے نو (۹) ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔

۲۔ نو (۹)  ذی الحجہ کو حضرت جبرائیل  علیہ السلام نےحضرت ابراہیم  علیہ السلام کوتمام "مناسکِ حج" سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔

۳۔ نو(۹) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چونکہ میدانِ عرفات میں وقوف کے لیے جاتے ہیں، تو اس مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو "یومِ عرفہ" بھی کہاجاتاہے۔

مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ تسمیہ کے اعتبار سے’یومِ عرفہ‘کوصرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف وجوہات کی بنا پر (۹)ذی الحجہ کادوسرا نام ہے، لہٰذا یہ دن ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا،یعنی دیگر ممالک میں جس دن نو(۹) ذی الحجہ ہوگی وہی دن ’یومِ عرفہ ‘کہلائے گا، خواہ اس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ ہویا نہ ہو۔


Saturday, July 10, 2021

مرنے کے بعد کیا ہوتاہے؟

بسم الله الرحمن الرحیم
مومن کی روح کا استقبال اور کافرکی روح کا انجام
نیک آدمی کاسفرآخرت اوربُرے آدمی کاانجام

رسول اﷲﷺنے ارشاد فرمایا: "لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ"۔ ’’ان الفاظ کےساتھ دعامانگی جائے توضرورقبول ہوگی‘‘۔ انشاءاﷲ

بسم الله الرحمن الرحیم
لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

۱۔ ’’حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔ فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلاَّ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ"‘‘۔ ’’حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذو النون کی مچھلی کے پیٹ میں کی ہوئی دعا: "لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ" کے ذریعے کوئی بھی مسلمان شخص  کسی بھی وقت دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں‘‘۔ (جامع الترمذی: ج۲، كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، رقم الحدیث۳۵۰۵)

۲۔ ’’حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلاَءً، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ، إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ، إِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلاَّ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ بِهَا‘‘۔ ’’حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲعنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: حضرت یونس علیہ السلام نےمچھلی کے پیٹ میں جودعا مانگی تھی وہ یہ ہے: "لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ"۔ آپﷺنے فرمایامسلمان کسی بھی معاملے میں ان لفظوں کے ساتھ دعا مانگے تواﷲتعالیٰ اس کوقبول کرتاہے‘‘۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ج۱،  کتاب المناسک، باب الدعاء والتکبیر، صفحہ ۲۴۸، رقم الحدیث ۱۸۶۲، ۱۸۶۳)

۳۔ ’’فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا نَزَلَ بِرَجُلٍ مِنْكُمْ كَرِبٌ، أَوْ بَلاَءٌ مِنْ بَلاَيَا الدُّنْيَا دَعَا بِهِ يُفَرَّجُ عَنْهُ؟ فَقِيلَ لَهُ: بَلَى، فَقَالَ: دُعَاءُ ذِي النُّونِ: لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ‘‘۔ ’’حضرت ابراہیم بن محمدبن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سےوہ ان کےداداسے روایت کرتے ہیں کہ: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ بتلاؤں کہ  جب تم  سے کوئی مصیبت میں مبتلا ہو جائے، یا دنیاوی کوئی آزمائش آ جائے تواس دعا کے کرنے سے اس کی مشکل کشائی ہو جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: کیوں نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ذو النون کی دعا: "لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ")‘‘۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ج۱،  کتاب المناسک، باب الدعاء والتکبیر، صفحہ ۲۴۸، رقم الحدیث ۱۸۶۴)

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ

۱۔ ’’حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، ذُو الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ، أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ كَادَ يَدْعُو اللَّهَ بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى‘‘۔ ’’حضرت انس بن مالک رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے ایک شخص کویوں دعامانگتےسنا: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ" توآپﷺنے ارشادفرمایا: اس شخص نے اﷲتعالیٰ کےاس نام کےساتھ دعامانگی ہےکہ جب بھی اس کےساتھ دعامانگی جائےتوقبول کی جاتی ہےاورجب بھی اس نام کے ساتھ مانگاجائےتوعطاکیاجاتاہے‘‘۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ج۱،  کتاب المناسک، باب الدعاء والتکبیر، صفحہ ۲۴۶، رقم الحدیث ۱۸۵۷)

۲۔ ’’حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ۔ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ۔ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ‘‘۔ ’’حضرت عبداﷲبن بریدہ اسلمی رضی اﷲعنہ اپنے والد سے روایت کرتےہیں کہ نبی اکرمﷺنے ایک شخص کویوں دعامانگتےسنا: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ" تورسول اﷲﷺنے فرمایا: اس نے اﷲتعالیٰ سے اس کےاس اسمِ اعظم کےساتھ دعامانگی ہےکہ جب بھی اس کےساتھ دعامانگوتوقبول ہوتی ہےاورجب بھی اس کے ساتھ سوال کروتوپوراکیاجاتاہے‘‘۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ج۱،  کتاب المناسک، باب الدعاء والتکبیر، صفحہ ۲۴۷، رقم الحدیث ۱۸۵۸)

۳۔ ’’أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَنْبَأَ شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَحَدٌ صَمَدٌ، لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ: لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ وَالأَكْبَرِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى‘‘۔ ’’حضرت ابن بریدہ رضی اﷲعنہ اپنے والد سے بیان کرتےہیں کہ نبی اکرمﷺنے ایک شخص کویوں دعامانگتےسنا: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ" تورسول اﷲﷺنے فرمایا: اس شخص نے اﷲتعالیٰ سے اس کےاس اسمِ اعظم کےساتھ دعامانگی ہےکہ جب اس کےساتھ دعامانگی جائے توقبول ہوتی ہےاورجب اس کے ساتھ مانگاجائے توعطاکیاجاتاہے‘‘۔(المستدرک علی الصحیحین للحاکم: ج۱،  کتاب المناسک، باب الدعاء والتکبیر، صفحہ ۲۴۷، رقم الحدیث ۱۸۵۹)

Wednesday, July 7, 2021

سبحان اللہ و بحمدہ، سبحان اللہ العظیم پڑھنے کی فضلیت

بسم الله الرحمن الرحیم
سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم

ویسے توہرمسلمان کوپانچوں وقت نماز سے فارغ ہوکران تسبیحات کوپڑھنے کااہتمام کرناچاہیئے لیکن جولوگ اپنی مصروفیت کی وجہ سے ان تسبیحات کوپڑھنے سے قاصرہیں انہیں چاہیئے کہ صبح دفترجاتے ہوئے اورشام میں واپس لوٹتے ہوئے دورانِ سفران تسبیحات کوپڑھنے کی عادت بنالیں۔ اس طرح ان تسبیحات کو۱۰۰ مرتبہ صبح اور۱۰۰ مرتبہ شام میں بآسانی پڑھاجاسکتاہے۔ اﷲتعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں اپنے صحیح دین پرچلنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

۱۔ ’’حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ"‘‘۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازو پر (آخرت میں) بھاری ہیں اور اللہ رحمٰن کے یہاں پسندیدہ ہیں وہ یہ ہیں۔ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم‘‘۔ (صحیح البخاری: ج۸، كتاب الأيمان والنذور، بَابُ إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لاَ أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ۔ فَصَلَّى أَوْ قَرَأَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ أَوْ حَمِدَ أَوْ هَلَّلَ، فَهْوَ عَلَى نِيَّتِهِ، رقم الحدیث ۶۶۸۲)

۲۔ ’’حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "‏كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ"‘‘۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازومیں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں۔ سبحان الله العظيم ، ‏‏‏‏ سبحان الله وبحمده‘‘۔ (صحیح البخاری: ج۸، كتاب الدعوات، باب فَضْلِ التَّسْبِيحِ، رقم الحدیث ۶۴۰۶)

۳۔ ’’حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ "مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ۔‏ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ"‘‘۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نےسبحان اللہ وبحمدہ دن میں سو مرتبہ کہا ، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔ (صحیح البخاری: ج۸، كتاب الدعوات، باب فَضْلِ التَّسْبِيحِ، رقم الحدیث ۶۴۰۵)

۴۔ ’’حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ۔‏لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلاَّ أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ"‘‘۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جوشخص صبح و شام میں سو (سو) مرتبہ''سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ''کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو‘‘۔ (صحیح مسلم: ج۲، كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ ، رقم الحدیث۶۸۴۳)

۵۔ ’’حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ "مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ"۔ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ‘‘۔ ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ''سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ''کہا، اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگادیا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے‘‘۔ (جامع الترمذی: ج۳، كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، رقم الحدیث۳۴۶۴، ۳۴۶۵)

۶۔ ’’حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ "مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ"۔ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ‘‘۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: جوشخص سوبار'' سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ''کہے گا اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگر چہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے‘‘۔ (جامع الترمذی: ج۳، كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، رقم الحدیث۳۴۶۶)