-->

یہ بیج محمد اقبال (مرحوم) کے نام سے صدقہ جاریہ ہے

Friday, June 11, 2021

مرحومین کے لئے دعائے مغفرت۔

بسم الله الرحمن الرحیم

بعض باطل فرقے جیساکہ پرانے زمانے میں معتزلہ اورموجودہ دورکے منکرین حدیث نےمیت کے ایصال ثواب کے سلسلے میں قرآن کی آیت کے عموم سے استدلال کیاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہے:

 {وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی}۔ ’’اور انسان ہی کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے کوشش کی ہوگی‘‘۔ [سورۃالنجم: ۵۳:۳۹]

ان کامانناہےکہ یہ نص قرآن ہے جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کوبروز قیامت اس کےاپنےاعمال پرجزا ملے گی جو اس نے خود کئے ہونگے۔ اگران کی اس بات کوتسلیم کرلیاجائے توقرآن کی ان آیات اورذیل میں درج درجنوں احادیث کا انکار لازم آتاہےکیونکہ اﷲتبارک وتعالیٰ نے خود ہمیں والدین اوراپنے مومن بھائیوں کے لئے دعائے مغفرت سکھائی ہیں اوررسول اﷲﷺ نے خودہمیں مرحومین کی طرف سے ایصال ثواب اوردعائے مغفرت کرنے کی ترغیب دی ہے۔

جیساکہ اﷲرَبّ العزت نےخودقرآن کریم میں ہمیں والدین کے لیے مغفرت ورحمت طلب کرنےکی دعا سکھائی ہے:

{رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیرًا}۔ ’’اے اللہ ان پر اس طرح رحمت فرما، جیسے بچپن میں انہوں نے مجھے شفقت سے پالا‘‘۔ [سورۂ بنی اسرائیل:۱۷: ۲۴]

یہ دعا صرف والدین کی زندگی ہی میں نہیں بلکہ ان کے دنیاسے رخصت ہونے کے بعدبھی مانگی جاسکتی ہیں بلکہ ان کے دنیاسے جانے کے بعدانہیں ہماری دعاؤں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح اﷲرَبّ العزت نےخودقرآن کریم میں ہمیں تمام مومنین کے لیے مغفرت کی دعا سکھائی ہے:

{رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ}۔ ’’اے اللہ ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو جنہوں نے ایمان لانے میں ہم سے سبقت کی‘‘۔ [سورۃالحشر:۵۹:۱۰]

جمہورائمہ کرامؒ نے معتزلہ اورمنکرین کی پیش کردہ آیت کے جواب میں کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہےکہ سورۃ النجم کی آیت منسوخ ہے اوراس کی ناسخ یہ آیت مقدسہ ہے:

{وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ مَاۤ اَلَتۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ کُلُّ امۡرِیًٔۢ بِمَا کَسَبَ رَہِیۡنٌ}۔ ’’ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے‘‘۔ [سورۃ الطور:۵۲:۲۱]

مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوا کہ والدین کی نیکی کے سبب اولاد جنت میں داخل ہوگی۔

دوسری وجہ علماءکرامؒ نےیہ بیان فرمائی ہےکہ سورۃ النجم کی مندرجہ بالاآیت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت موسیٰ کلیم اﷲعَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کے لئے ہےجبکہ امت مسلمہ کے لئے حضرت عکرمہ رحمہ اﷲفرماتے ہیں کہ: ’’اس امت کے لئے وہ ہےجواس نے کوشش کی اوروہ بھی جس کی اس کےلئے کوشش کی گئی‘‘۔

تیسری وجہ حضرت سیدنا ربیع بن انس رحمہ اﷲبیان کرتے ہیں کہ: ’’اس آیت طیبہ میں انسان سے مراد کافرہیں جبکہ مومن کے لیے تو اس کی اپنی کوشش اوراس کے لئے کی گئی کوشش بھی ہے‘‘۔

تیسری وجہ حضرت حسین بن فضل رحمہ اﷲبیان فرماتے ہیں کہ: ’’آدمی اپنی ہی کوشش سے پائے گایہ توعدل کی صورت میں ہےجبکہ فضل کی صورت میں جس کےلئے اﷲتعالیٰ جتناچاہے زیادہ عطافرمادے‘‘۔

اورپانچویں دلیل تواﷲربّ العزت نےقرآن مجیدمیں سورۃ الکھف کی ان آیات میں واضح طورپر بیان فرمائی ہے:

{وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَ مَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا}۔ ’’دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں‘‘۔ [سورۃ الکھف: ۱۸: ۸۲]

حضرت سیدنا خضرعَلَیْہِ السَّلَام نے یتیم بچوں کی دیوار کو اس لیے درست کر دیا تھا کہ ان کاباپ ایک نیک و صالح شخص تھا۔ معلوم ہوااللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نیک بندوں کی وجہ سے ان سے وابستہ لوگوں پر بھی بے انتہا کرم فرماتا ہے۔

اتنے واضح دلائل کےبعدبھی اگرکوئی شخص یافرقہ مرحومین کےلئےدعائے مغفرت اورایصال ثواب کاانکارکرتاہے تواس کے گمراہ ہونے میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

۱۔ ’’حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ "اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ"‘‘۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دے دی تھی جس دن ان کا انتقال ہوا تھا اور آپﷺنے فرمایا تھا کہ اپنے بھائی کی مغفرت کے لئے دعا کرو‘‘۔ (صحیح بخاری: ج۵، کتاب مناقب الأنصار، باب مَوْتُ النَّجَاشِيِّ، رقم الحدیث ۳۸۸۰)

۲۔ ’’حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ "اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ وَسَلُوا لَهُ التَّثْبِيتَ فَإِنَّهُ الآنَ يُسْأَلُ"۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ بَحِيرُ بْنُ رَيْسَانَ‘‘۔ ’’حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے: اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا مانگو، اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو، کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا‘‘۔ (سنن ابی داؤد: ج۳، کتاب الجنائز، باب الاِسْتِغْفَارِ عِنْدَ الْقَبْرِ لِلْمَيِّتِ فِي وَقْتِ الاِنْصِرَافِ، رقم الحدیث ۳۲۲۱)

۳۔ ’’حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ "الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ أُوقِيَّةٍ كُلُّ أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ"۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ "إِنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَنَّى هَذَا فَيُقَالُ بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ"‘‘۔ ’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا، پھر وہ کہتا ہے کہ میرا درجہ کیسے بلند ہو گیا (حالانکہ ہمیں عمل کا کوئی موقع نہیں رہا) اس کو جواب دیا جائے گا: تیرے لیے تیری اولاد کے دعا و استغفار کرنے کے سبب سے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ: ج۵، کتاب الأدب، باب بِرِّ الْوَالِدَيْنِ، رقم الحدیث ۳۶۶۰)

۴۔ ’’وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الْمَيِّتُ فِي الْقَبْرِ إِلَّا كَالْغَرِيقِ الْمُتَغَوِّثِ يَنْتَظِرُ دَعْوَةً تَلْحَقُهُ مِنْ أَبٍ أَوْ أُمٍّ أَوْ أَخٍ أَوْ صَدِيقٍ فَإِذَا لَحِقَتْهُ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيُدْخِلُ عَلَى أَهْلِ الْقُبُورِ مِنْ دُعَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ أَمْثَالَ الْجِبَالِ وَإِنَّ هَدِيَّةَ الْأَحْيَاءِ إِلَى الْأَمْوَاتِ الِاسْتِغْفَارُ لَهُمْ»۔ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان‘‘۔ ’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲعنہابیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت قبر میں ڈوبنے والے غوطہ کھانے والے کے مثل ہوتے ہیں۔ وہ دعا کا انتظار کرتے ہیں کہ اس کا باپ یا ماں یا بھائی یا دوست کی طرف سے پہنچے۔ پھر جب اس کو کوئی دعا پہنچتی ہے، تو وہ اس کے لیے دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ قبر والوں کو زمین والوں کی دعا کی وجہ سے پہاڑ کے مانند ثواب پہنچاتا ہے۔ اور بے شک مردوں کے لیے زندوں کا تحفہ ان کے لیے استغفار کی دعا مانگنا ہے‘‘۔ (مشکوۃ المصابیح للالبانی: ج۲، كتاب الدعوات، باب الاستغفار والتوبة - الفصل الثالث، رقم الحدیث ۲۳۵۵؛ أخرجه البيهقي في "شعب الإيمان": ج۶، ص۲۰۳، رقم الحدیث٧٩٠٥)

Thursday, June 10, 2021

فوت شدہ والدین کے رشتہ داروں اوردوستوں سےحسن سلوک۔

بسم الله الرحمن الرحیم

’’حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، - الْمَعْنَى - قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ، مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَىَّ شَىْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا قَالَ "نَعَمِ الصَّلاَةُ عَلَيْهِمَا وَالاِسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لاَ تُوصَلُ إِلاَّ بِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا"‘‘۔ ’’حضرت مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کی کوئی خدمت اولاد کے ذمہ ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں نماز پڑھنا اور ماں باپ کے لیے استغفار کرنا۔ اگر انھوں نے کسی سے کوئی وعدہ کیا ہو، تو اس کو پورا کرنا۔ ماں باپ کے واسطے سے جن لوگوں کی رشتہ داری ہوتی ہو، ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ماں باپ کے دوستوں کی عزت کرنا، یہ سب باتیں ماں باپ کے مرنے کے بعد ان کی خدمت میں شامل ہیں۔ (سنن ابی داؤد: ج۳، كتاب الجنائز، باب كَيْفَ يُكْتَبُ إِلَى الذِّمِّيِّ، رقم الحدیث ۵۱۴۲)

میت کی طرف سےنذر کی ادائیگی۔

بسم الله الرحمن الرحیم

۱۔ ’’حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيَّ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ۔ فَأَفْتَاهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا، فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدُ‘‘۔ ’’حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺسے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمہ باقی تھی اور ان کی موت نذر پوری کرنے سے پہلے ہو گئی تھی۔ آنحضرتﷺنے انہیں فتویٰ اس کا دیا کہ نذر وہ اپنی ماں کی طرف سے پوری کر دیں۔ چنانچہ بعد میں یہی طریقہ مسنونہ قرار پایا‘‘۔ (صحیح بخاری: ج۸، کتاب الأيمان والنذور، باب مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ، رقم الحدیث ۶۶۹۸)

۲۔ ’’قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ "اقْضِهِ عَنْهَا"‘‘۔ ’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺسے پوچھا: میری والدہ فوت ہوگئی ہیں، ان کے ذمے نذر ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اس کی طرف سے نذر کو پورا کر‘‘۔ (سنن نسائی: ج۲، کتاب الوصايا، باب ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُفْيَانَ، رقم الحدیث ۳۶۹۰-۳۶۹۲)

۳۔ ’’أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحَمَدَ أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ عَنْ عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّهُ اسْتَفْتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ کَانَ عَلَی أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْضِهِ عَنْهَا‘‘۔ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم ﷺسے دریافت کیا کہ ان کی والدہ نے ایک نذر مانی تھی جس کے پورا کرنے سے قبل ہی ان کی وفات ہو گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم اپنی والدہ کی نذر پوری کرو‘‘۔ (سنن نسائی: ج۲، کتاب الوصايا، باب فَضْلِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ، رقم الحدیث ۳۶۸۷-۳۶۸۸)

۴۔ ’’أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ کَثِيرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا قَالَ أَعْتِقْ عَنْ أُمِّکَ‘‘۔ ’’حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول کریم ﷺکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺمیری والدہ نے ایک نذر مان لی تھیں جس کو پورا کئے بغیر ان کی وفات ہوگئی اب اگر میں ان کی جانب سے کوئی غلام یا باندی آزاد کر دوں تو کیا یہ کافی ہوگا؟ آپ ﷺنے فرمایا جی ہاں۔ (سنن نسائی: ج۲، کتاب الوصايا، باب فَضْلِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ، رقم الحدیث ۳۶۸۶)

۵۔ ’’دَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَالِكَ‘‘۔ ’’حضر ت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عاص بن وا ئل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس کے بیٹے ہشام نے باپ کی طر ف سے۵۵اونٹ ذبح کیے،عمرو رضی اللہ عنہ نے حضورﷺسے پو چھا ان کا کیا ہوگا؟ آپﷺنےفرمایا، تیرا باپ توحید کااقرار کرتا اور تو روزہ رکھ کریا صدقہ کرکے ثواب پہنچاتا تو اس کو اس سے فا ئدہ ہوتا‘‘۔ (مسند الإمام أحمد: مسند المكثرين من الصحابة، مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله تعالى عنهما، ص ۱۸۲، رقم الحدیث ۶۷۰۴)

میت کی طرف سےقرض کی ادائیگی۔

بسم الله الرحمن الرحیم

’’أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ قَالَ وَتَرَکَ دَيْنًا فَاسْتَشْفَعْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ فَأَبَوْا فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَکَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَی حِدَةٍ وَعِذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَی حِدَةٍ وَأَصْنَافَهُ ثُمَّ ابْعَثْ إِلَيَّ قَالَ فَفَعَلْتُ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ فِي أَعْلَاهُ أَوْ فِي أَوْسَطِهِ ثُمَّ قَالَ کِلْ لِلْقَوْمِ قَالَ فَکِلْتُ لَهُمْ حَتَّی أَوْفَيْتُهُمْ ثُمَّ بَقِيَ تَمْرِي کَأَنْ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْئٌ‘‘۔ ’’حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن حرام (میرے والد) لوگوں کا قرضہ چھوڑ کر شہیدہو گئے تھے تو میں نے رسول کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺان کے قرض خواہوں سے میری سفارش کر کے قرض میں کمی کرا دیں۔ آپ ﷺ نے ان سے گفتگو فرمائی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے مجھ کو حکم فرمایا کہ تم جاؤ اور تم اپنی ہر ایک قسم کی کھجوروں یعنی عجوہ عذق بن زید اور اسی طریقہ سے ہر قسم کی کھجوروں کا علیحدہ علیحدہ ڈھیر لگا کر تم مجھ کو بلا لینا۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسی طریقہ سے کیا تو رسول کریم ﷺ تشریف لائے اور ان میں سب سے اونچے ڈھیر یا درمیان والے ڈھیر پر بیٹھ گئے پھر مجھ کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں کو ناپ دینا شروع کر دو میں ناپ ناپ کر دینے لگا۔ یہاں تک کہ میں نے تمام کا قرض ادا کر دیا اور اب بھی میرے پاس میری کھجوریں باقی رہ گئیں گویا کہ ان میں بالکل کمی نہیں ہوئی‘‘۔ (صحیح بخاری: ج۳، کتاب البيوع، باب الْكَيْلِ عَلَى الْبَائِعِ وَالْمُعْطِي، رقم الحدیث ۲۱۲۷؛ سنن نسائی: ج۲، کتاب الوصايا ،  باب قَضَاءِ الدَّيْنِ قَبْلَ الْمِيرَاثِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ جَابِرٍ فِيهِ، رقم الحدیث ۱۵۷۹)

مرحومین کی طرف سے صدقہ خیرات کرنا۔

بسم الله الرحمن الرحیم

۱۔ ’’أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ عَنْ وَکِيعٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ سَقْيُ الْمَائِ‘‘۔ ’’حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺمیری والدہ کی وفات ہوگئی ہے۔ کیا میں ان کی جانب سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺنے فرمایا جی ہاں۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کونساصدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ پانی پلانے والا‘‘۔ (سنن نسائی: ج۲، کتاب الوصیہ، وصیتوں سے متعلقہ احادیث، رقم الحدیث ۱۶۰۶)

۲۔ ’’حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ "الْمَاءُ"۔ قَالَ فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ هَذِهِ لأُمِّ سَعْدٍ‘‘۔ ’’سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ام سعد ( میری ماں ) انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : " پانی " ۔ راوی کہتے ہیں : چنانچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا : یہ ام سعد کا ہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد: ج۲، کتاب الزكاة، باب فِي فَضْلِ سَقْىِ الْمَاءِ، رقم الحدیث ۱۶۸۱)

۳۔ ’’حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ "نَعَمْ"‘‘۔ ’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺسے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپﷺنے فرمایا ہاں ملے گا‘‘۔ (صحیح بخاری: ج۲، کتاب الجنائز، باب مَوْتِ الْفَجْأَةِ الْبَغْتَةِ، رقم الحدیث ۱۳۸۸)

۴۔ ’’حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ـ رضى الله عنه ـ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهْوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، أَيَنْفَعُهَا شَىْءٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا قَالَ "نَعَمْ"۔ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمِخْرَافَ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا‘‘۔ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی ماں عمرہ بنت مسعود کا انتقال ہوا تو وہ ان کی خدمت میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے آ کر رسول اللہ ﷺسے پوچھا یا رسول اللہ! میری والدہ کا جب انتقال ہوا تو میں ان کی خدمت میں حاضر نہیں تھا۔ کیا اگر میں کوئی چیز صدقہ کروں تو اس سے انہیں فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ آپﷺنے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے‘‘۔ (صحیح بخاری: ج۴، کتاب الوصايا، بَابُ إِذَا قَالَ أَرْضِي أَوْ بُسْتَانِي صَدَقَةٌ عَنْ أُمِّي. فَهُوَ جَائِزٌ، وَإِنْ لَمْ يُبَيِّنْ لِمَنْ ذَلِكَ، رقم الحدیث ۲۷۵۶)

۵۔ ’’حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ، أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ، عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً فَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يَعْتِقَ عَنْهُ الْخَمْسِينَ الْبَاقِيَةَ فَقَالَ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْصَى بِعِتْقِ مِائَةِ رَقَبَةٍ وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَةً أَفَأُعْتِقُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "إِنَّهُ لَوْ كَانَ مُسْلِمًا فَأَعْتَقْتُمْ عَنْهُ أَوْ تَصَدَّقْتُمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتُمْ عَنْهُ بَلَغَهُ ذَلِكَ"‘‘۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عاص بن وائل نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے، اس کے بعد اس کے (دوسرے) بیٹے عمرو نے ارادہ کیا کہ باقی پچاس وہ اس کی طرف سے آزاد کر دیں، پھر انہوں نے کہا: (ہم رکے رہے) یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺسے پوچھ لیں، چنانچہ وہ نبی اکرم ﷺکے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی تو ہشام نے اس کی طرف سے پچاس غلام آزاد کر دیئے ہیں، اور پچاس غلام ابھی آزاد کرنے باقی ہیں تو کیا میں انہیں اس کی طرف سے آزاد کر دوں؟ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر وہ (باپ) مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے آزاد کرتے یا صدقہ دیتے یا حج کرتے تو اسے ان کا ثواب پہنچتا‘‘۔ (سنن ابی داؤد: ج۲، کتاب الوصایا، باب مَا جَاءَ فِي وَصِيَّةِ الْحَرْبِيِّ يُسْلِمُ وَلِيُّهُ أَيَلْزَمُهُ أَنْ يُنْفِذَهَا ، رقم الحدیث ۲۸۸۳)

۶۔ ’’أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّا بْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُکَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا‘‘۔ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میری والدہ صاحبہ کی وفات ہوگئی ہے اگر میں ان کی جانب سے وصیت کر دوں تو کیا ان کو اس کا اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں۔ وہ کہنے لگا کہ میں آپ ﷺ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنا باغ ان کی جانب سے صدقہ کر دیا ہے‘‘۔(سنن نسائی: ج۲، کتاب الوصیہ،  وصیتوں سے متعلقہ احادیث، رقم الحدیث ۳۶۸۵)

مرحومین کی طرف سے حج وعمرہ کی ادائیگی۔

بسم الله الرحمن الرحیم

۱۔ ’’حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ "نَعَمْ۔ حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً اقْضُوا اللَّهَ، فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ"‏‏‘‘۔ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکیں اور ان کا انتقال ہو گیا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے تو حج کر۔ کیا تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتیں؟ اللہ تعالیٰ کا قرضہ تو اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے‘‘۔ (صحیح بخاری: ج۳، کتاب جزاء الصيد، باب الْحَجِّ وَالنُّذُورِ عَنِ الْمَيِّتِ وَالرَّجُلُ يَحُجُّ عَنِ الْمَرْأَةِ، رقم الحدیث ۱۸۵۲)

۲۔ ’’حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ۔ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم "لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ"۔ قَالَ نَعَمْ۔ قَالَ "فَاقْضِ اللَّهَ، فَهْوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ"‘‘۔ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے؟ آنحضرت ﷺنے فرمایا اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ انہوں نے عرض کی ضرور ادا کرتے۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کا قرض پورا ادا کیا جائے‘‘۔ (صحیح بخاری: ج۸، کتاب الأيمان والنذور، باب مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ، رقم الحدیث ۶۶۹۹)

۳۔ ’’حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - بِمَعْنَاهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ حَفْصٌ فِي حَدِيثِهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ - أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لاَ يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلاَ الْعُمْرَةَ وَلاَ الظَّعْنَ۔ قَالَ "احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ"‘‘۔ ’’حضرت ابورزین رضی اللہ عنہ بنی عامر کے ایک فرد کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی اور نہ سواری پر سوار ہونے کی، آپ ﷺنے فرمایا: "اپنے والد کی جانب سے حج اور عمرہ کرو"‘‘۔ (صحیح ابی داؤد: ج۲، كتاب المناسك، باب الرَّجُلِ يَحُجُّ عَنْ غَيْرِهِ، رقم الحدیث ۱۸۱۰)

۴۔ ’’حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالَ إِسْحَاقُ - حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ۔ قَالَ "مَنْ شُبْرُمَةَ"۔ قَالَ أَخٌ لِي أَوْ قَرِيبٌ لِي۔ قَالَ "حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ"۔ قَالَ لاَ۔ قَالَ "حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ"‘‘۔ ’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے ایک شخص کو کہتے سنا: «لبيك عن شبرمة» «حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے» آپ ﷺ نے دریافت کیا: شبرمہ کون ہے؟، اس نے کہا: میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے، آپ ﷺنے پوچھا: تم نے اپنا حج کر لیا ہے؟، اس نے جواب دیا: نہیں، آپ ﷺنے فرمایا: پہلے اپنا حج کرو پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا‘‘۔ (سنن ابی داؤد: ج۲، كتاب المناسك، باب الرَّجُلِ يَحُجُّ عَنْ غَيْرِهِ، رقم الحدیث۱۸۱۱)

مندرجہ بالاتمام احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جب فوت شدہ باپ، بھائی، بہن اور رشتہ دارکی طرف سے حج کیاجاسکتا ہے اوربیمار باپ کی طرف سے حج وعمرہ دونوں کیئے جاسکتے ہیں تو پھرفوت شدہ والدین، بھائی بہنوں اوررشتہ داروں کی طرف سے حج وعمرہ دونوں کرنا جائزہوا۔